سندھ میں عام انتخابات میں لاڈلوں کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو

جمعیت علماء اسلام سندھ کے جنرل سیکریٹری مولانا راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ سندھ میں عام انتخابات میں لاڈلوں کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو جے یو آئی اور حکمران مخالف جماعتیں الیکشن کمیشن کے دفاتر، سابق حکمرانوں اور اسمبلیوں کا گھیراؤ کرکے تحریک چلائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں ہونے والے حلقہ بندیوں پر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس میں شامل جے یو آئی، ن لیگ، ایم کیو ایم پاکستان سمیت دیگر حکمران جماعتوں نے اعتراضات اٹھائے اور ہم نے ہر محاذ پر اتحادیوں سے ملکر آواز اٹھائی لیکن ہمارے اعتراضات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر پیپلز کے اعتراضا کو سنا گیا جس سے ہم سندھ کے الیکشن کمشنر کو فریق سمجھتے ہیں انہیں فورن ہٹایا جائے، سندھ کے چیف الیکشن کمشنر نے ہمارے اعتراضات پر کان نہیں دھرے جبکہ بلدیاتی انتخابات والا سلسلہ منعقد کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ 15 سال والوں کی فرامئش پر 5 یوسیز کو پی ایس ایس 22 سے 11 میں رکھا گیا، ووٹرس کے ساتھ مذاق ہے، پہلے روٹی مکان پر ووٹ لیا گیا دم توڑ گیا تو شھیدوں پر ووٹ لیا گیا، 15 سال اقتدار پر قابض رہنے والوں نے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ذریعے بلدیاتی انتخابات پی پی نے جیتے تھے اب بھی اسی طریقے سے جیتنا چاہتے ہیں، چیف الیکشن کمشنر سے مطالبا کرتا ہوں کہ الیکشن نا کرائیں آپ عوام سے مذاق کر رہے ہیں، ہم نے اپنی چوری کیئے گئے مینڈیٹ کو برداشت کیا,لیکن اب مینڈیٹ چوری کرنے نہیں دینگے، ہم نے لاڈلے کو بھی گھر بھیجا اگر سندھ میں لاڈلا لایا گیا تو اسیمبلیوں اور سابق حکمرانوں کا گھیراؤ کرینگے، ہم جیلوں سے نھیں ڈرتے، چیف الیکشن کمشنر کو ایم کیو پاکستان، جی ڈی اے، نون لیگ جے یو آئی کی درخواستوں پر نوٹیس لینا چاہیئے، انہوں نے کہا کہ سندھ میں سسٹم اسی طریقے سے چل رہا ہے، منتھلیاں ، کمیشن جاری ہے۔سندھ کے سسٹم کو توڑا جائے ورنہن سندھ طریقی نہیں کریگا، بار بار ایس ایس پی بدلا جارہا ہے اس طرح کا مذاق کسی صوبے میں نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ نیوٹرل ایس ایس پی، ڈی آئی جی اور کمشنر رکھما چاہیئے، آر او آور ڈی آر او اگر وڈیروں کے کہنے پر لگینگے تو رزلٹ ووہی ہوگا، انہوں نے کہا کہ نثار کھڑو کو پتا ہے کہ اسٹیبلشمینٹ کے چھیتے کون ہیں ، یہ اقتدار سے باھر نھیں رہ سکتے ، ان کی منتھلی کم ہوئی ہے تو ان کی حالت بگڑ گئی ہے، آپ شہر کا دورا کریں ہر طرف تباھی پھیلی ہوئی ہے، الیکشن کے لیئے ہم تیار ہیں لیکن امن کی گارنٹی ضرور دی جائے، 2018 میں دو لاڈلے تھے ایک مرکز کا اور ایک صوبے کا ایک لاڈلا 16 ماھ تو صرف دوروں پر تھا اب چیخ رہا ہے، انتخابات کا عمل صاف شفاف ہونا چاہیئے عوام جس کو لائے اور عوامی حکومت بنے، عوامی اتحاد لاڑکانہ مضبوطی سے بنا ہوا ہے ، عادل الطاف چلے گئے ہیں اس کے باوجود ہم کھڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ کی تاریخ کا بڑا اجتماع طوفان اقصی، شھید اسلام کانفرنس اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی جس پر بھرپور کوریج پر شکر گزار ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں